جنرل ٹریڈ ملک کے تمام صنعتی شعبوں کا احاطہ کرتی ہے۔ زیادہ تر کسٹمرز کنٹریکٹ، ٹینڈر یا طویل مدتی شراکت داری کے ذریعے ڈیل کیے جاتے ہیں۔ اہم کسٹمرز میں او جی ڈی سی ایل، این ایل سی، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا، پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ، پاکستان اسٹیل ملز، سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی، روپالی گروپ اور اینگرو کیمکلز و دیگر شامل ہیں۔آئل مارکیٹنگ کمپنیاں بھی جنرل ٹریڈ کا حصہ ہیں جن میں شیوران پاکستان لمیٹڈ، بکری ٹریڈنگ کمپنی، ہیسکول، اوورسیز آئل ٹریڈنگ اور عسکری آئل شامل ہیں۔

پاکستان ریفائنری کے ساتھ پی ایس او کا کاروبار گزشتہ 40سال سے ریٹ رننگ کنٹریکٹ کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ ہم نے پاکستان ریلویز کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرتے ہوئے ریلوے کی ہائی اسپیڈ ڈیزل اور لبریکنٹس کی طلب پوری کرنے کی پیشکش کی ہے۔ اس ضمن میں پاکستان ریلویز کا 206ملین روپے مالیت کا ٹینڈر پی ایس او نے بہترین مسابقت کے ذریعے حاصل کیا ہے۔ یہ کنٹریکٹ 8ستمبر2008 کو تین سال کے لیے یوارڈ کیا گیا۔ اسی طرح 17ستمبر 2011کو بھی اسی مقدار کی فراہمی کے لیے معاہدہ طے کیا گیا جس کی مدت16ستمبر 2014کو ختم ہوگی۔

پی ایس او کے پاکستان آرمی کے ساتھ دیرینہ اور گہرے روابط قائم ہیں ۔ ہم مسلح افواج کی سیاچن سے بحرہ عرب تک کسی بھی جگہ اور کسی بھی وقت موجودہ اور مستقبل کی طلب پوری کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔