پی ایس اونے مالی سال 2018 میں 20فیصد شرح نموکے ساتھ 1.1کھرب روپے کاسیلز ریونیو اور 15.5 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع حاصل کرلیا

Date: 2018-08-13
ملک کی صف اول کی توانائی کمپنی ،پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے بورڈ آف مینجمنٹ کا اجلاس11اگست 2018کو پی ایس او ہیڈ کوارٹرز کراچی میں منعقد ہوا جس میں30 جون 2018کو اختتام پذیر ہونے والے مالی سال کے دوران کمپنی کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔

مالی سال 2018کے دوران کمپنی کے مجموعی منافع میں 11فیصد اضافہ ہوا اور 15.5ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع حاصل ہوا ۔ کمپنی کی مجموعی کارکردگی بدستورمستحکم رہی ۔ مالی سال 2017کے 0.9کھرب روپے کے مقابلے میں اس سال سیلز ریونیو20فیصد اضافے سے 1.1کھرب روپے تک پہنچ گیا۔

پی ایس او نے سال کے اختتام پر مائع فیولز کے شعبے میں کل50فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ اپنی سبقت برقرار رکھی۔ موگیس اورہائی اسپیڈ ڈیزل( ایچ ایس ڈی) کے سیلز والیوم میں بالترتیب 10.1فیصد اور 2.4فیصدکا اضافہ ہوا جو گزشتہ تین سال میں سب سے زیادہ اضافہ ہے۔ کمپنی نے نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جدید ترین سہولیات سے آراستہ ری فیولنگ فیسلٹی کے آغاز سے ایوی ایشن فیولز کے شعبے میں بھی اپنے کردار میں اضافہ کرلیا ہے۔کمپنی کمرشل فیولز میں 79.2 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ انڈسٹری میں قائدانہ حیثیت کی حامل ہے اور اس وقت پاکستان کے تمام دس ہوائی اڈوں پر خدمات انجام دے رہی ہے۔

نان فیول ریٹیل کے میدان میں پی ایس او نے اپنے کردار کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنے شاپ اسٹاپ (جن کی تعداد مالی سال 2018کے دوران کل 13ہے) کی تزئین نو کرنے کے علاوہ ملک بھر میں اپنے ریٹیل اسٹیشنوں پر اے ٹی ایمز کی تعداد میں اضافہ کیا ہے( جو مالی سال 2018کے دوران 50 ہیں)۔ اس شعبے کے ریونیو میں 69 فیصد اضافہ ہوا۔ پی ایس او نے اعلیٰ معیار کاRON 97 HOBCفیول بھی متعارف کیا۔کمپنی حکومت پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں ملک کے عوام کو معیاری پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے کے لیے فیول کے معیارر میں مزید بہتری لائی ہے۔

پاکستان اسٹیٹ آئل نے کوالٹی مینجمنٹ سسٹم کے قیام کے اپنے مقصد کے تحت ISO-9001:2015 سرٹیفیکشن حاصل کی۔ کمپنی نے آئی کیپ (ICAP) اور آئی سی ایم اے پی (ICMAP)کے تحت مشترکہ طور پر منعقدہ ’بیسٹ کارپوریٹ رپورٹ ایوارڈز ‘ میں تیل اور گیس کے شعبے میں تیسری پوزیشن اپنے نام کی۔اس کے علاوہ پی ایس او ساؤتھ ایشین فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس ( ایس اے ایف اے) کے زیر انتظام منعقدہ ’بہترین سالانہ رپورٹ ایوارڈز‘ میں مشترکہ طور پر سیکنڈ رنر اپ کی پوزیشن کی حقدار قرار پائی ۔

پی ا یس ا و نے فیول کی محفوظ نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے ہڑتالوں اور کمپنی کے جدید فلیٹ پر حملوں کے باوجود اپنے فیول ٹرانسپورٹیشن سسٹم میں بھی اصلاحات کیں ۔اس مالی سال کے دوران توانائی کے شعبے نے فرنس آئل کی فراہمی کے عوض مکمل ادائیگیاں نہیں کیں جس سے کمپنی کے کیش فلو پراضافی دباؤ پڑا۔صرف گزشتہ مالی سال میں کمپنی کے واجبات میں 24 ارب روپے کا مزید اضافہ ہوا۔

کمپنی نے بلیک آئل کی طلب میں 29.6فیصد کی یک لخت کمی کے باوجود اپنے مجموعی منافع میں اضافہ کیا۔ جولائی 2017میں پی آئی بیز(PIBs) کی جانب سے حاصل شدہ منافع کی میجورٹی کے باعث مارک اپ میں 4.3 ارب روپے کی کمی اور مستقبل کے کارپوریٹ ٹیکس ریٹ میں 1.3 ارب روپے کی کمی سے ڈیفرڈ ٹیکس اثاثہ جات کے ریورسل کی بدولت مالی سال 2018 میں گزشتہ سال کی نسبت کمپنی کے بعد از ٹیکس منافع میں2.7 ارب روپے کی کمی ہوئی ۔

کمپنی کی مالی کارکردگی کی بنیاد پر بورڈ آف مینجمنٹ نے فی حصص5 پانچ روپے 50)فیصد)کے حتمی کیش ڈیوی ڈنڈ اور 20فیصد اسٹاک ڈیوی ڈنڈ کی منظوری دی ہے(یعنی ہر 5 شیئرز کے بدلے ایک شیئر) جو 10روپے فی حصص کے عبوری کیش ڈیوی ڈنڈ کے علاوہ ہے۔ ڈیوی ڈنڈ (بشمول اسٹاک ڈیوی ڈنڈ) مالی سال کے دوران 17روپے (170%فی حصص)رہا۔

پی ایس او نے مسلسل تعاون کی فراہمی پر تمام ملازمین ، اسٹیک ہولڈرز اور اشتراک کاروں کا شکریہ ادا کیا ۔کمپنی نے مسلسل تعاون اور رہنمائی کے لیے حکومت پاکستان ، بالخصوص وزارت توانائی ، پیٹرولیم ڈویژن کے لیے بھی اپنے تشکر کا اظہار کیا۔