پی ایس او نے ملک میں تھیلیسیمیا کے خاتمے کے لیے افضال میموریل تھیلیسیمیافاؤنڈیشن کو مالی امدادفراہم کردی

Date: 2018-05-22
پاکستان اسٹیٹ آئل ملک میں موذی مرض تھیلیسیمیا کے تدارک کی کوششوں میں بھرپور تعاون کررہی ہے۔اس مقصد کے تحت پی ایس او نے حال ہی میں افضال میموریل تھیلیسیمیا فاؤنڈیشن ( اے ایم ٹی ایف) کے ساتھ اشتراک قائم کیا اور عالمی یوم تھیلیسیمیا پر فاؤنڈیشن کو دس لاکھ روپے کی امداد فراہم کی ۔ پی ایس او کے ایم ڈی اور سی ای او شیخ عمران الحق نے اس موقع پر منعقدہ تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور اے ایم ٹی ایف کو امدادی چیک پیش کیا۔ اس امدادی رقم سے اے ایم ٹی ایف وسائل سے محروم طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو تھیلیسیمیا کے علاج کی سہولیات فراہم کرے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈی و سی ای او ، پی ایس او شیخ عمران الحق کا کہنا تھا:

’’پاکستان اسٹیٹ آئل معاشرے کی پائیدار ترقی کے فروغ میں اپنا بہترین کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ سماجی و معاشی ترقی کے فوائد ملک بھر تمام شہریوں تک پہنچائے جاسکیں۔ مجھے خوشی ہے کہ پی ایس او سی ایس آر ٹرسٹ خون کی بیماریوں بالخصوص پاکستان سے تھیلیسیمیا کے خاتمے کے لیے متعدد اداروں کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔مجھے امید ہے کہ افضال میموریل تھیلیسیمیا فاؤنڈیشن کے ساتھ ہمارے تعاون سے ادارے کو ایسی بیماریوں کے تدارک میں مدد ملے گی جو تمام عمرکے افراد ،بالخصوس بچوں کو متاثر کرتی ہیں ۔‘‘

افضال میموریل تھیلیسیمیا فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عتیق الرحمن نے تھیلیسیمیا کے تدارک کے لیے پی ایس او کی فیاضانہ امداد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:

’’کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) معاشرے کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ ہے اور پی ایس او افضال میموریل تھیلیسیمیا فاؤنڈیشن کو عطیہ کے ذریعے تھیلیسیمیا کے خاتمے میں موثر کردار ادا کررہی ہے جس کے لیے ہم اس کے شکر گزار ہیں۔ اے ایم ٹی ایف اس آگہی کے فروغ کے ذریعے تھیلیسیمیا سے پاک پاکستان کے لیے جدوجہد کررہا ہے کہ کیسے اس بیماری کے متعلق عوامی آگاہی نہ ہونے کے سبب یہ تیزی سے پھیل رہی ہے اور کون سے آسان طریقوں سے اسے روکا جاسکتا ہے۔ تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کا علاج مہنگا ہے اور چونکہ انہیں مستقل ہسپتال میں ہی رہنا پڑتا ہے لہٰذا یہ غریب آدمی کی دسترس سے باہرہے ۔ پی ایس او کے سی ایس آر ٹرسٹ کی جانب سے ملنے والی امدادسے اے ایم ٹی ایف میں زیر علاج غریب بچوں کی جان بچانے میں مدد ملے گی۔‘‘