پاکستان اسٹیٹ آئل نے 31اگست کو نشر ہونے والے بول نیوز کے پروگرام میں لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کی ہے۔

Date: 2018-09-05
پی ایس او کا مؤقف ہے کہ پروگرام میں دکھائی گئی دستاویزات سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کئی گئی اور یک طرفہ نتیجہ اخذ کرتے ہوئے تجزیہ پیش کیا گیا جس کا مقصد کمپنی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔ پی ایس او کے مطابق پیش کردہ معلومات جانبدار اور یک طرفہ مؤقف ہے ،امکان ہے کہ کمپنی کے کسی بدعنوانی میں ملوث یا ناراض ملازم سے جانبداری پر مبنی معلومات حاصل کرکے نامکمل حقائق اور معلومات نشر کی گئیں جو صحافتی اصولوں کے منافی ہے۔

پروگرام میں کمپنی کے روز مرہ امور کو بھی مسخ کرکے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ، جیساکہ میزبان اور تجزیہ کار نے الزام لگایا کہ پی ایس او میں 1.5ٹریلین روپے کی کرپشن ہوئی۔ کمپنی اس بات کو واضح کرتی ہے کہ پروگرام میں پیش کیے گئے اعدادو شمار بے بنیاداور گمراہ کن ہیں۔ کوئی ادارہ اس درجہ کی کرپشن کامتحمل نہیں ہوسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ایس او نے گزشتہ سالوں میں مجموعی طور پراچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جو مالی نتائج سے بھی ظاہر ہوتی ہے ۔یہ سب حکومت پاکستان کی سرپرستی میں سینئر مینجمنٹ، کمپنی کے ملازمین اور پی ایس او کے بورڈ آف مینجمنٹ کی غیر معمولی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

پروگرام میں لگائے گئے تمام الزامات کوکمپنی نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے عوام الناس کو مطلع کیاہے کہ پاکستان اسٹیٹ آئل میں تمام انتظامی اور کاروباری معاملات کمپنی پالیسی اور قانونی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے انجام دئیے جاتے ہیں،اس کے باوجود کسی بھی غلطی یا بدعنوانی کی صورت میں کمپنی ادارے کی پالیسیوں اور قابل اطلاق ملکی قوانین کی سختی سے تعمیل کرتے ہوئے کارروائی کرتی ہے۔

پی ایس او واضح کرتا ہے کہ ایک ذمہ دار و قومی ادارے کے خلاف منفی اور یک طرفہ پروپیگنڈہ نہ تو کمپنی ،اس کی انتظامیہ کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ملک کے حق میں بہتر ہے۔