پاکستان اسٹیٹ آئل ملک کا ایک مثالی ادارہ ہے۔ ملک کے لاتعداد لوگوں کی روز مرہ زندگیوں سے کمپنی کا براہ راست تعلق ہے۔ ادارے میں شامل باصلاحیت افراد، ایندھن ذخیرہ اور سپلائی کرنے کے لیے بہترین انفرااسٹرکچر اور وسیع ریٹیل نیٹ ورک کی وجہ سے پی ایس او ملک کی معیشت کا پہیہ رواں دواں رکھنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ مالی سال 2014-15کے دوران کمپنی نے مارکیٹ میں اپنا نمایاں مقام برقرار رکھا۔ بلیک آئل کے شعبے میں کمپنی کا مارکیٹ شیئر 66.6فیصد جبکہ وائٹ آئل کے شعبے میں 49.8فیصد رہا اس طرح مجموعی طور پر پی ایس او کا مارکیٹ شیئر 56.8فیصد رہا۔ گردشی قرضوں کے چیلنج کے باوجود پی ایس او نے خود سے وابستہ توقعات پر پورا اترنے کی روایت برقرار رکھتے ہوئے بہترین کارکرگی کا تسلسل جاری رکھا اور توانائی، ہوابازی، میرین اور ترانسپورٹ سیکٹر کو ایندھن کی بروقت اور مسلسل فراہمی ممکن بنائی گئی۔ مارکیٹ میں مسابقت کے لیے متحرک ہونے کی محدود گنجائش اور دیگر کاروباری اداروں کے مساوی وسائل رکھنے کی وجہ سے ملک کی اس سب سے بڑی انرجی کمپنی کو مارکیٹ میں اپنی قائدانہ پوزیشن برقرار رکھنے اورمارکیٹ شیئر بڑھانے کے لیے سخت کوششوں کی ضرورت تھی۔ ہم نے اپنے بنیادی کاروبار پر توجہ مرکوز رکھی ساتھ ہی انٹرپرینیورشپ اور خود احتسابی کی اپنی روایت کو بھی مزید مضبوط بنائے رکھا۔ ہمارا آئندہ ہدف متنوع اقدامات کے ذریعے کارڈز ، غیر ایندھن اشیا کی ریٹیل اور گیس پرمبنی ایندھن کی فروخت کو بہتر بناتے ہوئے شیئر ہولڈرز کے لیے فائدہ حاصل کرنا ہے۔

ہمارے عزائم بلند ہیں اورکٹھن کاروباری ماحول کا سامنا ہے تاہم پی ایس او کے مستقبل میں اپنے شیئرہولڈرز کو زیادہ ریٹرن ادا کرنے کے لیے پوری صلاحیت، اعتماد، حوصلہ اور پلیٹ فارم موجود ہے۔ میں نے پی ایس او میں یکم ستمبر 2015کو شمولیت اختیار کی، بنیادی کمیٹیوں اور فورمز کی ازسرنو تقرری کے بعد انتظامی ٹیم پی ایس او کے امور کو پورے توجہ اور جوش و جذبے سے جاری رکھنے اور ان امور کی میرٹ پر انجام دہی کے لیے بھرپور طریقے سے تیار ہے۔ میں اپنے پیغام کے اختتام پر ماضی میں درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے مسلسل معاونت اور پرخلوص کاوشوں کے لیے پی ایس او کے صارفین ، اسٹیک ہولڈرز ، انتظامیہ اور پی ایس او کی پوری ٹیم اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی وزارت پیٹرولیم و قدرتی وسائل اور حکومت پاکستان کے تعاون کا کا شکر گزار ہوں ۔ پی ایس او کی ٹیم اپنی کاوشوں کو جاری رکھتے ہوئے مستقبل میں بھی کمپنی کی حکمت عملی اور منصوبوں پر احسن طریقے سے عمل درآمد کرتی رہیگی۔ اگرچہ ہمارے اہداف مشکل ہیں اورہمیں سخت کاروباری ماحول کا سامنا ہے تاہم پی ایس او اپنے شیئرہولڈرز کو زیادہ ریٹرن ادا کرنے کے لیے بھرپور صلاحیت، اعتماد اور ہمت سے سرشار ہے ۔

شیخ عمران الحق۔
ایم ڈی اینڈ سی ای او